Ye Hai Meri Kahani

یہ ہے میری کہانی
خاموش زندگانی
سنّاٹا کہہ رہا ہے
کیوں ظلم سہہ رہا ہے؟

اک داستاں، پرانی
تنہائی کی زبانی
ہر زخم کھل رہا ہے
کچھ مجھ سے کہہ رہا ہے

(آ) چبتے کانٹے یادوں کے، دامن سے چنتا ہوں
(آ) گرتے دیواروں کے آنچل میں زندہ ہوں

بس یہ میری کہانی
بے نشاں نشانی
اک درد بہہ رہا ہوں
کچھ مجھ سے کہہ رہا ہے

چبتے کانٹے یادوں کے، دامن سے چنتا ہوں
(آ) گرتے دیواروں کے آنچل میں زندہ ہوں

بجائے پیار کی شبنم، میری گلستان میں
برستے رہتے ہیں ہر سمت موت کے سائے
سیاہیوں سے اُلجھ پڑتی ہیں میری آنکھیں
کوئی نہیں، کوئی بھی نہیں جو بتلائے
میں کتنی دیر اُجالوں کی راہ دیکھے گا
کوئی نہیں، ہے کوئی بھی نہیں
نہ پاس، نہ دور
اک پیار ہے، دل کی دھڑکن
اپنی چاہت کا جو اعلان کئے جاتی ہے
زندگی ہے، جو جئے جاتی ہے
خون کے گھونٹ، پئے جاتی ہے
خواب آنکھوں سے سئے جاتی ہے

اب نہ کوئی پاس ہے
پھر بھی احساس ہے
سیاہیوں میں اُلجھی پڑی
جینے کی، اک آس ہے
یادوں کا، جنگل یہ دل
کانٹوں سے، جل تھل یہ دل

(آ) چبتے کانٹے یادوں کے، دامن سے چنتا ہوں
گرتے دیواروں کے آنچل میں زندہ ہوں



Credits
Writer(s): Virag Mishra
Lyrics powered by www.musixmatch.com

Link