Mere Meherban (From "Mere Meherban")

اکیلی جاں پہ جہاں نے ہزار ظلم کیے
کبھی تماشا بنایا، کبھی فریب دیے
مگر ملال، نہ شکوہ، نہ کوئی پرواہ ہے
مجھے یقین ہے کافی ہے تو ہی میرے لیے

وہ جو تنکا-تنکا اڑا گئیں
کوئی درد و غم کی ہوائیں تھیں
میری بندگی میں تھی کیا کمی
میرے واسطے جو سزائیں تھیں

میری زندگی میں جو دکھ لکھے
میرے مولا کیا وہ خطائیں تھیں
جنہیں آنسوؤں میں پرویا تھا
وہ میری ادھوری دعائیں تھیں

نہ میری زمیں، نہ میرا آسماں
تو اپنے کرم کا دکھا دے نشاں

میرے مہرباں، اے، میرے مہرباں
میرے مہرباں، میرے مہرباں

نہیں جل رہے تھے دیے جہاں
وہاں میں نے آنکھیں جلائیں ہیں
جہاں دھوپ تیز تھی دور تک
وہاں میں نے پلکیں بچھائیں ہیں

مگر اپنی ساری یہ چاہتیں
مجھے راس ہی نہیں آئی ہیں
میرے اپنوں کی وہ رفاقتیں
جو پرائی تھیں وہ پرائی ہیں

کہ تو آسرا، تو میرا رازداں
تو اپنے کرم کا دکھا دے نشاں

میرے مہرباں، میرے مہرباں
میرے مہرباں، میرے مہرباں

جسے اپنے ہونے پہ ناز تھا
وہی اپنے ذات سے دور تھا
وہاں بے بسی کی ہیں تلخیاں
جہاں خواہشوں کا سرور تھا

ہیں اندھیرے اس کے نصیب میں
کبھی جس کی آنکھوں میں نور تھا
سبھی اس کی دھڑکنیں چھین گئیں
جسے اپنے دل پہ غرور تھا

کہ تو ہی مٹا دے غرور جہاں
تو اپنے کرم کا دکھا دے نشاں

میرے مہرباں، میرے مہرباں
میرے مہرباں، میرے مہرباں
مہرباں، میرے...

میرا جرم تھا میرا بولنا
کہ ستم تھا لب میرا کھولنا
کیا میں نے غم کا جو سامنا
پڑا دل کو بارہا تھامنا

کرے کوئی اس کو بیان کیا
نہیں کوئی درد کی انتہا
یہ مگر ہے وقت کا فیصلہ
کبھی رائیگاں نہ گئی وفا

کہ چاروں طرف غم، سکوں درمیاں
تو اپنے کرم کا دکھا دے نشاں

میرے مہرباں، میرے مہرباں
میرے مہرباں، میرے مہرباں

نہ حقیقتوں میں کوئی خوشی
نہ کوئی سکون ہے خواب میں
نظر آئے لمحہ نجات کا
نہ گناہ میں، نہ صواب میں

وہ جو پیاسا رکھتا تھا اوروں کو
وہی گھومتا ہے سراب میں
وہ جو ظلم کرتا تھا رات، دن
وہ پڑا ہے آپ عذاب میں

کہ تو ہی جھکا دے سبھی سر یہاں
تو اپنے کرم کا دکھا دے نشاں

میرے مہرباں، اے، میرے مہرباں
میرے مہرباں، اے، میرے مہرباں
میرے مہرباں، میرے مہرباں
میرے مہرباں، اے، میرے مہرباں
میرے مہرباں، میرے مہرباں



Credits
Writer(s): Sabir Zafar, Farrukh Abid, Shoiab Farrukh
Lyrics powered by www.musixmatch.com

Link